ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / طلاق کوئی مسئلہ نہیں بلکہ مسلم خواتین کو بہتر تعلیم اور اچھی صحت کی ضرورت ہے:جماعت اسلامی ہند کی شعبہ خواتین کی پریس کانفرنس

طلاق کوئی مسئلہ نہیں بلکہ مسلم خواتین کو بہتر تعلیم اور اچھی صحت کی ضرورت ہے:جماعت اسلامی ہند کی شعبہ خواتین کی پریس کانفرنس

Tue, 02 May 2017 22:05:50    S.O. News Service

نئی دہلی :2/مئی (ایس اؤنیوز)در اصل تین طلاق کوئی مسئلہ نہیں ہے، مسلم خواتین کو بہتر تعلیم اور اچھی صحت کی ضرورت ہے ۔ملک بھر میں جاری جماعت اسلامی ہند کی مسلم پرسنل لا بیداری مہم کے متعلق عوام کو معلومات فراہم کی جارہی ہیں، جماعت کے وابستگان دیگر تنظیموں کے تعاون سے ملک کے مختلف حصوں میں عائلی مسائل بشمول طلاق کاؤنسلنگ سنٹر س ،دارالقضا اور شرعیہ پنچایت کا قیام عمل میں لا رہے ہیں ۔عائلی مسائل جیسے طلاق ،نکاح،وراثت وغیرہ میں اسلامی تعلیمات سے مسلم عوام کوواقف کرانے کے لیے ملک کے دس لاکھ مساجد کو ہدف بنایا گیا ہے۔یہ بات جماعت اسلامی ہند کے شعبہ خواتین کی قومی سکریٹری محترمہ عطیہ صدیقہ نے کہا۔

جماعت اسلامی ہند مرکز میں منعقدہ پریس کانفرنس کو خطاب کرتے ہوئے محترمہ نے بتایا کہ ہماری اس مہم میں خواتین ملک بھر کے گوشے گوشے میں گھر گھر پہنچ کر مہم کا مقصد بیان کررہی ہیں،اور جماعت اسلامی ہند کے نمائندے نکاح ،طلاق، خلع اور وراثت میں اسلامی تعلیمات سے واقف کرنے کا کام انجام دے رہے ہیں۔ تین طلاق اور تعدد ازواج پر بحث و مباحثہ درحقیقت کچھ لوگوں کے ذریعہ اپنا مفاد حاصل کرنا ہے ۔وہ اسے سیاسی معاملہ بنا کر معاشرہ کو باٹنا چاہتے ہیں۔ ان کا مقصد اسلام اور مسلمانوں کو بدنام کرنا ہے اور یہ واضح کرنا ہے کہ مسلمان خواتین کااستحصال کرتا ہے۔محترمہ نے یہ بتا یا کہ مسلم پرسنل لا اُس قانون کا مجموعہ ہے جو قرآن و حدیث سے ماخوذ ہے اور قرآن و سنت کی تعلیم میں کسی بھی تبدیلی اور ترمیم کا حق کسی جماعت یا انسان کو نہیں ہے۔ اس کے ساتھ انھوں نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں کے درمیان بیداری لانے ضرورت ہے تاکہ وہ اس کا غلط استعمال نہ کرسکے۔

محترمہ عطیہ صدیقہ نے میڈیا کے درمیان ملک بھر میں جاری مسلم پرسنل لا بیداری مہم کے متعلق معلومات فراہم کی اور بتایا کہ جماعت اسلامی ہند اس مہم کے دوران ملک کی 23ریاستوں میں افتتاحی پروگرام کا انعقاد، پریس کانفرنس سمیت اجلاس عام ، 10,000بیداری پروگرام،مسلم پرسنل لا سے متعلق 20لاکھ کتابوں کی تقسیم،اسلام میں صنفی عدل کا نظام کے موضوع پر 700سمینار اور سمپوزیم کا انعقاد کرے گی۔درج بالا پروگراموں کے علاوہ جماعت اسلامی ہند ملک کے تمام بڑے شہر، نگر اور علاقوں میں بھی سمنار،سمپوزیم،اجلاس عام اور ریلیوں جیسے پروگراموں کا انعقادکرے گی۔اس کے علاوہ چھونپڑ پٹی علاقوں میں 500اجلاس کا انعقاد،20ہزارگاؤں تک رسائی،15لاکھ لوگوں سے انفرادی ملاقات،میڈیا کے ذریعہ لاکھوں ہندوستانیوں تک رسائی،MPLACکے نام سے گوگل پلے ایپ کا مفت ڈاؤن لوڈ، پیغام کو عام کرنے کے لیے سوشل میڈیا کا استعمال پر زور دے گی۔یہ مہم 7مئی 2017اختتام پذیر ہوگا۔جب ان سے پوچھا گیا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے مسلمانوں کو صلاح دی ہے کہ وہ تین طلاق کو سیاسی نہ بنائے۔ نامہ نگار کے اس کا جواب دیتے ہوئے محترمہ نے کہا کہ یہ بات ہم سبھی جانتے ہیں کہ تین طلاق کو کون سیاسی موضوع بنا رہاہے،انھیں چاہیے وہ اسے فوری بند کریں ۔ہم خود چاہتے ہیں کہ طلاق کے مسئلہ کوسطح صفر تک لایا جائے۔اسی لیے ہم لوگ ملک گیر مہم چلا رہے ہیں۔انھوں نے کہا کہ مسلمانوں کی تصویر بگاڑی جارہی ہے اور میڈیا بھی مسلم پرسنل لا کی تصویر پیش کرنے میں جانب دارانہ رویہ اپنارہاہے۔ہم اپنی تصویر کو بہتر بنانا چاہتے ہیں۔تعددازواج پرایک سوال کے جواب میں محترمہ صدیقہ نے بتایا کہ اسلام میں تعدد ازواج کے نظم میں حکمت پوشیدہ ہے کہ مسمات اور مطلقہ خواتین دوبارہ اپنی خاندانی زندگی کا آغاز کر سکیں۔مخصوص حالات میں اس کا استعمال کیا جاتاہے۔اسلام چاہتا ہے کہ مرد خواتین کے ساتھ عزت واحترام کے ساتھ پیش آئے۔اس پریس کانفرنس سے دہلی وہریانہ کے شعبہ خواتین کی انچارج شائستہ رفعت نے بھی خطاب کیا۔


Share: